کرنل محمد خان

‏کرنل محمد خان۔۔۔
” اتفاقاً میرے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا، فرش پر گر کر ٹوٹ گیا، بیگم نے تیر کی طرح الزام کھینچ مارا:
“آپ ہمیشہ گلاس توڑ دیتے ہیں”
حالانکہ اس سے پہلے مجھ سے فقط ایک گلاس ٹوٹا تھا اور وہ بھی ہماری شادی کے ابتدائی دنوں میں، یعنی آج سے کوئی پندرہ سال پہلے۔ کیا پندرہ سالوں میں کوئی واقعہ دو دفعہ ظہور پذیر ہو تو اسے “ہمیشہ” کہا جا سکتا ہے؟
لیکن، زنانہ منطق کا اپنا ہی ناپ تول کا نظام ہے۔ پھر یہ ہمیشگی کا الزام مجھ پر گلاس شکنی کے سلسلے میں ہی عائد نہیں کیا گیا۔ یہی فرد جرم مجھ پر کئی دوسری خاصی معصومانہ حرکات کے ضمن میں بھی لگ چکی ہے:
“آپ غسل خانے کا نلکا ہمیشہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں”
حالانکہ یہ غلطی پندرہ سالوں میں شائد تین یا چار مرتبہ ہی ہوئی ہو گی، اور:
“آپ ہمیشہ گھر چابی گم کر دیتے ہیں”
حالانکہ، یہ جرم مجھ سے فقط ایک مرتبہ ہی سرزد ہوا تھا، اور:
“آپ ہمیشہ کار میں پٹرول ڈلوانا بھول جاتے ہیں”
یہ واقعہ یا حادثہ ایک دفعہ بھی نمودار نہیں ہوا۔ محض پٹرول رک جانے پر بیگم صاحبہ کو شبہ ہوا کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ لیکن نہیں، محترمہ ہمیشہ کا لفظ محض عادتاً استعمال نہیں کرتیں۔ ایسا ہوتا تو چند ایسے مواقع بھی ملے جہاں یہ لفظ جائز طور پر استعمال ہو سکتا تھا اور استعمال کرنا بھی چاہئیے تھا مگر، مجال ہے جو بیگم صاحبہ اسے نوک زبان پر لائی ہوں۔ ہر مہینے پہلی تاریخ کو ساری تنخواہ بیگم کے حوالے کر دیتا ہوں مگر، آج تک اس شریف زادی کے منہ سے تعریف کا ایک نہ نکل سکا، یہ بھی نہ نکلا کہ ” آپ ہمیشہ تنخواہ لا کر میرے ہاتھ پر رکھتے ہیں” اس ضمن میں کچھ فرماتی ہیں تو یہ:
“خدایا, کب مہینہ گزرے، چند ٹکوں کا منہ دیکھنے کو ملے”
اسی طرح میرا معمول رہا کہ بیگم کو ہر ہفتے ایک نئی فلم دکھانے سینما لے جاتا ہوں مگر، مجال ہے جو اس ہمیشگی کا انہیں خیال تک آیا ہو، بلکہ الٹی شکایت کرتی ہیں:
“ہاے، فلم دیکھے پورا ہفتہ ہونے کو ہے”
خدا جانے اس موضوع پر اپنے مرغوب لفظ ۔۔۔۔ہمیشہ ۔۔۔ کو کیسے وہ پی جاتی ہیں، ایک روز ڈرائنگ روم میں بیٹھا سگریٹ پی ریا تھا۔ اتفاقاً تھوڑی سی راکھ قالین پر گر گئی، بیگم نے جھٹ الزام تراشی کی:
“آپ ہمیشہ قالین پر ہی راکھ جھاڑتے ہیں”
میں نے کہا:
“کبھی کبھی راکھ گر جانے سے تو مجھے انکار نہیں لیکنش اگر میں ہمیشہ 40 سگریٹ روزانہ کی راکھ قالین پر جھاڑتا تو گزشتہ 15 سالوں میں ڈرائنگ روم میں تقریباً گیارہ ٹن راکھ کا ڈھیر لگ چکا ہوتا اور اس صورت میں یہ ڈرائنگ روم کی بجائے کوئلہ سینٹر نظر آتا”
لیکن, بجاے اس کے کہ اپنی غلطی کا احساس کرتے, کوئی معزرت کرتیں یا سیدھی سادھی معافی مانگتیں کہنے لگیں:
” تو سچ مچ اتنی راکھ جمع ہو جاتی؟ پھر تو اچھا ہوا، میں جوں توں کر کے ہر روز قالین صاف کرتی رہی”
گویا کہ محترمہ نے 11 ٹن فرضی راکھ ڈھونے کا کریڈٹ بھی اپنی جھولی میں ڈال لیا۔
چند روز ہوے، دفتر بند ہوا، گھر جانے کی نیت سے کار میں بیٹھا مگر، انجن جواب دے گیا۔ ناچار کار کو دفتر ہی میں چھوڑنا پڑا، بس سے گھر روانہ ہوا، گھر پہنچا، جونہی گھر قدم رکھا بیگم چلائی:
” آپ ہمیشہ کیچڑ سے لتھڑے جوتے پہنے ڈرائنگ روم میں داخل ہو جاتے ہیں”
یہ میری پیٹھ کا آخری تنکہ تھا۔اسی لمحے فیصلہ کر لیا جس کی رو سے اب ہمیشہ 40 سگریٹ روز قالین پر جھاڑتا ہوں، بیگم صاحبہ کو سچ مچ راکھ چننا پڑتی ہے، جس سے انہیں درد کمر کی مستقل شکایت ہے، غسل خانے کا نلکا اب ہمیشہ کھلا چھوڑ آتا ہوں، بیگم صاحبہ بھاگم بھاگ بند کرتی رہتی ہیں، ہر روز عارضی چابی گم کر دیتا ہوں، بیگم صاحبہ تھوڑی دیر کے لئے سٹپٹائیں رہتی ہیں۔ جہاں کہیں کیچڑ ملے، جوتوں پر مل کر ڈرائنگ روم میں آجاتا ہوں۔ روز بیگم میرے پاؤں پڑتی ہیں کہ خدارا ایسا نہ کیجئے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے لطف اٹھاتا ہوں۔ الغرض اب بیگم نے ان “ہمیشہ” والے الزامی جملوں کا استعمال ترک کر دیا ہے۔ اب ان کا مرغوب فقرہ ہے:
“آپ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے”
ویسے میں یہ حرکتیں کرنا چھوڑ تو دوں لیکن، کچھ روز نہیں، تاکہ یہ سبق بیگم صاحبہ کو اچھی طرح ذہن نشین ہو جاے:
” ایک یا دو کو ہمیشہ کہنا درست نہیں، نہ حقیقت کے طور پر اور نہ ہی گرامر کی رو سے”

Leave a Comment