ڈھکن تیار کرنے کی فیکٹریاں

‏”ڈھکن تیار کرنے کی فیکٹریاں”

مجھے اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد چرب زبان موٹیویشنل اسپیکرز کو سنتی ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں بڑے بڑے انسٹیٹیوشنز میں بطور اسپیکر مدعو کیا جاتا ہے۔
جب کہ یہ لوگ سر سے پیر تک زبان ہی زبان ہیں۔ یہ کسی فیلڈ کے ایکسپرٹ نہیں۔ کوئی اسکلز نہیں جانتے۔ کوئی کمپنی، کوئی ادارہ build نہیں کیا۔ کسی اسٹارٹ اپ کے فاؤنڈر نہیں۔

پھر بھی لاکھوں لوگ انھیں بیٹھ کر سنتے اور اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔

آپ کسی وقت یوٹیوب پر بیٹھ کر انٹرنیشنل TED Talks سنیے تو آپ جانیں کوالٹی اور ٹیلنٹ کسے کہتے ہیں۔ وہاں اپنی فیلڈ کے ماہرین مدعو کیے جاتے ہیں، بڑے بڑے achievers اور Doers کو بلایا جاتا ہے۔ وہ اپنا سفر شئیر کرتے ہیں، چول پنے کے قصے کہانیوں کی بجائے اپنے رئیل ورلڈ experiences شئیر کرتے ہیں۔

پاکستانی قوم کی اکثریت سرے سے جانتی ہی نہیں کہ “ویلیو انفارمیشن” کسے کہتے ہیں۔
میری ایک نصیحت ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں۔

یہ نہ دیکھیں کہ کوئی بندہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ یہ کیا کرچکا ہے۔ باتوں سے نہیں، کام سے متاثر ہونا سیکھیں۔

ان جیسے ٹین کے ڈبوں کو سن کر وقت برباد کرنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مناسب سائز کے کریانہ سٹور کے مالک کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ وہ کم سے کم مارکیٹ کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔ ایک مناسب سائز کا اسٹور کھڑا کرچکا ہے۔ اس کی چھوٹی ہی سہی پر ایک عملی اچیومنٹ ہے۔

وہ آپ کو ان سے زیادہ لرننگ دے کر جائے گا

Leave a Comment