مولانا ابوالکلام آزاد نے جب مشہور زمانہ اخبار “الہلال” کا اجراء کیا تو اس میں کچھ “تند و تیز ” تحریریں لکھ ڈالیں جو نازک مزاج قارئین کو پسند نہیں آئیں۔
چنانچہ ایک صاحب نے مولانا کو خط میں لکھا:
“مولانا صاحب! آپ اپنی تحریروں سے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں”
مولانا نے جواب میں فرمایا:
“جناب! آپ نے درست کہا، میری تحریر سے اگر ایک بھی “الو” سیدھا ہو جاۓ تو شکر کروں گا کہ میری محنت ٹھکانے لگی”